Top Daily Quotes

سچی پیشن گوئی

Mulk Tukry Top Daily Quotes

صلح حُدیبیہ کے بعد پیغمبر علیہ الصلوٰۃ واسلام نے شاہان ِعالم کے دعوتی خطوط ارسال کئے۔ ایک خط شاہ ایران کی طرف بھی بھیجا جسے حضرت عبد اللہ بن خُذافہ سہمی ؓ لے کر گئے ۔ کسریٰ کی طرف خط لیکر جانا کوئی معمولی بات نہ تھی ۔ حضرت عبد اللہ بن خُذافہ نے بیوی بچوں کو اللہ کے حولے کیا اور آپؐ کا خط لیکر روانہ ہوگئے۔یہاں تک کہ کئی دنوں کا سفر طے کر فارس پہنچے گئے ۔ شاہی دربار کے عمائدین کو بتایا کہ میں ایک قاصد ہوں اور بادشاہ تک پیغام پہچاناچاہتا ہوں ۔ کسریٰ نے اطلاع پا کر دربار سجایا امراء وزرا ء کو بلایا اور پھر قاصد کو حاضرہونے کا حکم دیا ۔حضرت حضرت عبد اللہ ؓ عرب کے لباس میں ملبو س انتہائی سادگی کے ساتھ اس کے دربار میں تشریف لے گئے اور بڑی ہمت اور جرات کے ساتھ بادشاہ کی طرف بڑھتے چلے گئے ۔کسریٰ نے ایک وزیر کی طرف اشارہ کیا کہ خط ان سے لیکر مجھے دو۔ لیکن حضرت عبد اللہ ؓنے کہا۔ لا انما امرنی رسول اللہ ﷺان ادفعہ لک یدابید ٍ ۔نہیں ایسا نہیں ہو سکتا مجھےتو میرے محبوب ؐ نے حکم دیا کہ خط تمہارے ہاتھ میں دوں ۔ اس لئے میں ان کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔ کسریٰ بولا ! چلو ان کو میرے پاس آنے دو ۔ آپؓ نے اس کے ہاتھ میں خود جا کر نامہ مبارک دیا۔ بعد ازاں کسریٰ نے اپنے مترجم کو کہاکہ اس کو پڑھو جوں ہی اس نے خط کھو لا تو لکھا تھا۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم من محمد رسول اللہ ؐ الیٰ کسریٰ عظیم فارس سلام علیٰ من اتبع ا لہدیٰ۔ کسریٰ نے ابھی نامہ مبارک یہاں تک سُنا تو غُصے سے لال پیلا ہو گیا ۔ گرج کر کہنے لگا کہ اس شخص نے میرے نام سے پہلے اپنا نام لکھ دیا ۔ اور مترجم کے ہاتھ سے نامہ مبارک چھین کر پھاڑ دیا اور کہا کہ میرا غلام ہو کر مجھے خط لکھتا ہے۔  ایکتُب  لی ھذا وھوا عبدی؟۔ پھر حکم دیا کہ دیا اس قاصد کو مجلس سے نکال دو ،جلد ہی میر ی آنکھوں سے دور کردیا جائے۔ حضرت عبد اللہ بن خذافہ ؓمجلس سے اُٹھےاُنہیں معلوم نہیں تھا کہ اب میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا ۔ پھرسوچا کہ جب میں نے اپنا فریضہ پورا کر دیا خط پہنچا دیا تو مجھے یہاں ٹھہرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ۔ لہذا فوراًسواری پر سوار ہوئےاور وقت ضائع کئے بغیر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ اُدھر جب کسریٰ کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے حضرت عبداللہ ؓکو بہت تلاش کرایا حتیٰ کہ عرب جانے والے راستوں میں بھی تلا ش کرایا ؛مگر حضرت عبد اللہؓ سفر کی منزلیں طے کرتے ہو ئے مدینہ منورہ پہنچے اور سیدھے دربار رسالت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ عرض کردیا۔ رسول اللہﷺ نے جب کسریٰ کی گستاخی کو سُنا تو آپ ؐ نے جواب میں صرف ایک ہی جملہ بولا۔ مزق اللہ مُلکہ اللہ نے اس کے ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئے۔ بعد ازاں کسریٰ نے اپنے نائب یمن کے گورنرباذان کو خط لکھا کہ حجاز میں مبعوث ہونے والے اس رسول کو گرفتار کر کے فوراًمیرے دربار میں حاضر کرو ۔باذان نے یہ حکم ملتے ہی اسلحہ سے لیس دو طاقتور فوجی پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام کو گرفتار کرنے کیلئے حجاز میں بھیج دئیے کہ جتنا جلدی ہو سکے کسریٰ کے حکم کی تعمیل کی جائے ۔ فو جیوں کو یہ بھی کہا کہ اس شخص کے بارے میں ہر قسم کی معلومات وغیرہ بھی جمع کر کے ساتھ لائیں۔ دونوں فوجی کسریٰ کا حکم نامہ لئے اپنے مشن پر روانہ ہو گئے۔جب طائف سے گزرے تو قریش کے چند تاجروں سے آپؐ کے متعلق معلومات حاصل کیں تاجروں نے بتایا کہ وہ تو یژب میں ہیں۔دونوں فوجی مدینہ منورہ پہنچے تو پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ملاقات کی اور کسریٰ اور باذان کا حکم نامہ پیش کیا کہ آپ ہمارے ساتھ چلئے-کسریٰ کے دربار میں آپ نے حاضر ہونا ہے۔ اگر آپ بات مان لیں گیں تو اس میں آپ کا اپنا فائدہ ہےاگر انکار کریں گے تو کسریٰ کی عظمت و سطوت آپ جانتے ہیں ،وہ آپ کی پوری قوم کو پل بھر میں ختم کر سکتا ہے۔رسول اللہ ﷺ اُن کی ساری بات سن کر مسکرائےاور فرمایا!کہ آج رات یہاں گزارو کل مجھے ملنا۔دوسرے دن صبح سویرے وہ فوجی پھر آگئےاور آپ کو کسریٰ کا حکم سُنا کر جلد از جلدتیاری کاحکم دینے لگے۔ پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا!کہ کسریٰ تو آج رات اپنے بیٹے شیرویہ کے ہاتھوں قتل ہو چکا ہے۔ دونو ں فوجی حیرانگی کے ساتھ آپ کا منہ دیکھنے لگےاور کہا۔ اتدری ماتقول؟ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔ کیا ہم آپ کی یہ بات نوٹ کر کے باذان تک پہنچا دیں ؟ آپ کو کیسے پتہ چلا کہ یہ واقعہ ہو چُکا ہے؟ آپؐ نے فرمایاکہ آج کی تاریخ (10 جما دی الاولیٰ7 ہجری) نوٹ کر لیں ۔اور باذان کو یہ بھی بتا دینا کہ میرا دین وہاں تک پہنچے گا جہاں تک کسریٰ کی حکومت ہے ۔اگر تو اسلام قبول کر لے تو تیرے علاقے پر میں تیری گورنری اور حکومت بر قرار رکھوں گا ۔ دونوں فوجی آپ کا یہ عجیب و غریب پیغام لیکر باذان کے دربار میں پہنچے۔ باذان سمجھ دار اور حقیقت شناش آدمی تھا ۔ کہا کہ یہ بات بادشاہوں کی سی نہیں اگر یہ بات سچی نکلی تو واقعی وہ نبی ہیں۔اگر ایسا نہ ہوا تو پھر اس شخص کے بارے کچھ اور ہی سوچنا پڑے گا ۔یمن سے فارس تک کئی دنوں کی مسافت تھی ۔باذان منتظر تھا کیاکہ واقعی یہ عظیم واقعہ رونما ہوچکا ہےتو چند دنوں میں حقیقت واضح ہو جائے گی ۔ کچھ دن گزرے تھے کہ باذان کے نام کسریٰ کے بیٹے شیرویہ کا خط آگیاکہ میں نے اپنے باپ کسریٰ کو اس کے مظالم کی وجہ فلاں تاریخ کو قتل کردیا ہے۔ آج کے بعد آپ میرے زیر نگیں ہوں گے اور جس شخص کوگرفتار کرنے کا حکم میرے باپ نے دیا تھا اس پر عمل درآمد روک دیں ۔ باذان نےجب یہ خط پڑھا تاریخ ملائی اور فوراً اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا۔آپؐکی بد دُعا کی مطابق چند ہی سالوں میں کسری ٰ کی حکومت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔

مزید واقعات پڑہیں