Top Daily Quotes

کستوری والا بابا

kasturi baba Top Daily Quotes

بیان کیا جاتا ہے کہ بصرہ میں ایک بوڑھا شخص رہتا تھا جس کےجسم سے کستوری کی خشبو آتی تھی ۔لوگ اس کو کستوری والا بابا کہہ کر پکارتے تھے ۔لوگ حیران تھے کہ ہمارے جسم سے تو بدبودار پسینہ نکلتا ہے اور اس بابا جی کے جسم سے خشبو والا ۔۔۔کئی بار لوگوں نے اس بارےپوچھامگر بابا جی نے کسی کو کچھ نہیں بتایا۔ایک دفعہ ایک بزرگ بصرہ میں تشریف لائے وہ بھی ان کے پسینے کی خشبو سے انتہائی متاثر ہوئے اور دل میں طے کر لیا کہ میں ان سے اسکی وجہ ضرور پوچھوں گا ۔چنانچہ وہ بزرگ تین دن تک بابا جی کے مہمان بنے۔ہرطرح سے جانچا پرکھا کہ کہیں یہ کوئی خشبو تو نہیں لگاتے؟ انہیں اندازہ ہو گیا کہ یہ کوئی خشبو استعمال نہیں کرتے بلکہ خود بخود ان کے جسم سے خشبو آتی ہے ۔انہوں نے ہر طرح اس کی وجہ پوچھی ،منت سماجت کی اور آخر کار خدا کا واسطہ دیا کہ مجھے یہ راز بتاؤ۔کستوری والا بابا اُن کے اصرار پر بالآخر مان گئے اور اپنی کہانی سنانا شروع کر دی۔کہنے لگے میں ایک امیر کبیر گھرانے میں پیدا ہوا۔پچپن میں انتہائی خوبصورت اور حیا دار تھا۔ ماں باپ نے مجھے کئی سال تک گھر ہی میں رکھا ۔اور باہرکی ہوا تک  نہ لگنے دی ۔جب میں جوان ہوگیا تو انہوں نے مجھے لوگوں سے مانوس کرنے کیلئے اور میری جھجک دور کرنے کیلئے مجھے ایک بزاز کے پاس بٹھا دیا ،میں انتہائی حیادار اور شرمیلا نوجوان تھا ،کبھی کسی عورت کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا۔ ایک دفعہ ایک انتہائی امیر ترین نوجوان لڑکی نے مجھے دیکھا تو میرے اوپر فریفتہ ہوگئ ۔میری خوبصورتی سے متاثر ہو کر باربار اس دوکان سے کپڑا لینے کیلئے آتی اور مجھ سے اشاروں میں محبت کا اظہار کرتی تھی ۔لیکن میں اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دیتا ۔ایک دفعہ اس نے ایک بڑھیا کو بھیجا اس نے دوکان سے کا فی کپڑا خریدا اور اس کی گٹھڑی باندھی ،اس کا وزن اتنا زیادہ تھا کہ وہ بڑھیا نہیں اُٹھا سکتی تھی اُس نے دوکان دار سے کہا کہ اس لڑکے کو گٹھڑی اُٹھوا کر میرے ساتھ بھیج دو مجھے گھر پہنچا آئے۔ دوکان دارنے مجھے کہا تو میں نے وہ گٹھڑی اُٹھائی اور اس کے ساتھ چل دیا مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ بڑھیا اس لڑکی کی بھیجی ہوئی ہے ۔ لہذا وہ بڑھیا مجھے ایک شاندار گھر کے اندر لے گئی اورمجھے کہا ادھر آؤ میں کے اس پیچھے پیچھے جارہا تھا بلآخر مجھے ایک خوبصوت کمرے کے پاس لے گئی اور مجھے کہا بیٹا اس گٹھڑی کو اس کمرے میں رکھ دو ۔ جونہی میں اس کمرے میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں وہی خوبصورت لڑکی بن سنور کر بیٹھی ہوئی ہے ،میرے اندر داخل ہوتے ہی کمرے کا دروازہ باہر سے بند کردیا گیا،اس لڑکی نے مجھے پکڑلیا اور برائی کی دعوت دی لیکن مجھے انتہائی وحشت ہونے لگی اور اللہ ڈراور خوف مجھ پر طاری ہو گیا۔ لیکن میں وہاں سے بھاگ بھی نہیں سکتا تھا کیو نکہ دروازہ باہر  سے بند تھا ۔ اچانک میرے دل میں ایک خیال  آیا، میں نے اس سےکہا ٹھیک ہے میں تیار ہو لیکن مجھے پہلے بیت الخلا جانا ہے۔ اس نے کہا اُدھر سیڑھیوں کے پاس بیت الخلا ہے وہاں چلے جاؤ ۔بیت الخلا پہنچ کر میں نے ہر طرف سے بھاگنے کا جائزہ لیا لیکن دیواریں بہت اونچی تھیں ،وہاں سے بھاگنے کا کوئی راستہ نظر نہ آیا ۔آخر کار میں نے ایک تدبیر سوچی اور اُس پر عمل کرتے ہوئے بیت الخلا کی ساری گندگی اور نجاست اپنے سارے جسم پر مل لی یہا ں تک کہ اپنے چہرے پر بھی نجاست کو لگا لیا اور پاگلوں کی طرح آوازیں نکالتا ہواباہرآیا ۔ایک نوکرانی تولیہ وغیرہ لے کر کھڑی تھی میں نے اس کودھکا دیا اور اس لڑکی کے پاس پہنچ گیا ۔ اس کے آگے پیچھے بھاگنے لگا سارا کمرہ بدبودار ہو گیا ۔لڑکی مجھے دیکھ کر گھبرا گئی اور اسے یقین ہو گیا کہ یہ تو کوئی پاگل لڑکا ہے ۔اس نے دروازہ کھلوا کر اپنے نو کروں کو حکم دیا کہ  اس کو باہر پھینک دو۔ نوکروں نے مجھے ایک پُرانی بوری میں لپیٹااور گھسیٹتے ہوئے باہرجنگل میں پھینک آئے۔میں وہاں سے اُٹھا اور ایک ندی پر جا کر اس نجاست کو دھویااور نہا دھو کر اللہ کا شکر ادا کیا،اور دکان پر پہنچ گیا۔میں اتنا نفیس مزاج تھاکہ نہانےکے باوجود مجھے اپنےآپ سےگھن آرہی تھی،بار بار غسل کیا مگر وہم دور نہیں ہو رہا تھا۔ رات میں نے خواب دیکھا۔ حضرت جبریل علیہ السلام مجھے ملے اور مجھے مبارک بادی اور اللہ کا سلام پہنچایااور پھر روئی کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کے ساتھ میرے جسم پر خوشبو لگادی اور فر مایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تو نے میری رضا کیلئے اپنے وجود کو بدبودار کیا۔ میں نے ہمیشہ کیلئے تجھے خوشبو دار کر دیا ۔لہذا اس دن سے برابر میرے جسم سے یہ خوشبو آرہی ہے۔وہ بزرگ فرماتے ہیں کہ یہ ساری کہانی سن کر میں سمجھ گیا کہ یقیناً یہ جنت کی خوشبو ہےجو کسی طرح ختم نہیں ہو سکتی۔

مزید واقعات پڑہیں