Top Daily Quotes

با با ہمیں نانا کے زمانے کی آذان تو سناؤ

Azan Top Daily Quotes

ہجرت کے بعد مسجد نبوی ؐجب تعمیرہو گئ تب آذان کی ابتداء ہوئی تو پیغمبر علیہ الصلٰوۃ والسلام نے آذان کیلئے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو منتخب فرمایا۔آپ کی آواز انتہائی بلند اور دلکش تھی اور اس میں ایسی تاثیر تھی کہ جو سُنتاوالہانہ اندازمیں مسجد کی طرف چل پڑتا۔آٹھ (8)ہجری میں جب مکہ فتح ہوا تو اُس وقت بھی آپؐنے حضرت بلالؓ کو حکم دیا کہ بام کعبہ پر چڑھ کر آذان دیں۔ گیارہ(11) ہجری میں جب پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام نے انتقال فرمایاتو حضرت بلالؓ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ، آپؐ کی جُدائی اور فراق برداشت نہ کر سکےاور منبرومحراب نبویؐ خالی دیکھ کر آنسو ضبط کرنا مشکل ہو گیا۔ دل میں یہی سوچتے کہ جب وہ شمع ہی نہ رہی جس کا میں پروانہ ہوں تو میری زندگی کس کام کی ؟۔۔وفات نبویؐ کے بعد آذان کہنے کی جراـت ہی نہ کر سکے ۔ باربار یہی خیال آتاکہ پہلے تو آذان دیتا تھا رحمتِ عالمﷺ حجرہ سے باہر تشریف لے آتے تھے ۔ اب آذان دوں گا تو آپ ؐ تو تشریف نہیں لائیں گے ۔محراب خالی پڑا رہےگا۔ یہی تصور ان کا جان لیوا تھا۔خلیفہ رسولؐ سیدنا حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ سے اجازت لی کہ میں بقیہ زندگی جہاد میں گُزارنا چاہتاہوں۔ حضرت ابو بکرؓنے خُدا کا واسطہ دے کر کہا میرا  ساتھ چھوڑ کر کہیں نہ جاؤ ، مجھے آخری عمر میں آپ کی شدید ضرورت ہے۔ حضرت بلالؓ نے سوال کیا کہ اے خلیفہ رسولؐ۔۔! کیا آپ نے مجھے خُدا کیلئے آزاد کیا تھا، یا اس لیئے کہ میں آپ کے ساتھ ہمیشہ رہوں گا؟۔۔ آپؓ فرمایا میں نے تمہیں محض اللہ کیلئے آزاد کیا تھا۔ حضرت بلال ؓ نے عرض کیا تو پھر مجھےجہاد کیلئے جانے کی اجازت دے دیں توحضرت ابوبکرؓ نے اجازت دے دی۔لہذا حضرت بلالؓشام جانے والے لشکر میں شامل ہو گئے،اور کافی عرصہ جہا د میں شریک رہے۔ بیتُ المقدس فتح کے ہونے پر حضرت عمررضی اللہ عنہ نے آپ سے ہی آذان دلوائی۔شام کے معرکوں سے فارغ ہو نے کے بعد حضرت بلالؓ نے وہیں ایک گاؤں ”خولان” میں مستقل سکونت اختیار کر لی ۔ایک رات خواب میں جناب ِ رسول اللہ ﷺکی زیارت نصیب ہوئی اور آپ ؐ نے فرمایا! ۔۔ کہ اے بلال تو نے تو ہمارے ہاں آنا ہی چھوڑ دیا! اس خواب نے حضرت بلالؓ کے دل و دماغ کو جھنجوڑدیا۔آتشِ فراق بھڑک اُٹھی اور بے تابانہ مدینہ منورہ کا رُخ کیا ۔ اہل مدینہ کو جب پتہ چلا کہ مؤذنِ رسولؐ حضرت بلالؓ آرہے ہیں تو شاندار استقبال کیا اور جب روضہ اقدس ؐ پر حاضر ہوئے تواس قدر روئے کہ دیکھنے والے بھی اپنے آنسو ضبط نہ کر سکے۔ بعد ازاں اہل مدینہ نے خواہش ظاہر کی کہ آذان دیں مگر آپ نے انکار کر دیا۔حتیٰ کہ خلیفہء وقت حضرت عمر ؓ نے جب فرمایا تب بھی معذرت کرلی کہ میر ے اندر یہ ہمت نہیں ہے۔ لوگوں نے حسنین کریمین (حضرت حسنؓ اور حضرت حُسینؓ) سے عرض کیا ۔جب یہ دونوں شہزادےتشریف لائےتو حضرت بلالؓ نے اپنے محبوب کے جگر گوشوں کو سینہ سے لگایا اور ان کا منہ اور سر چوما ،دیر تک ان سے والہانہ انداز میں ملتے رہے۔ ان دونوں نے فرمائش کی ۔ ”بابا بلال ہمیں نانا کے زمانے والی آذان تو سُناؤ” ۔ حضرت بلالؓ ان کی فرمائش کیسے ٹال سکتے تھے۔لہذا حامی بھر لی کہ کل فجر کی آذان انشاءاللہ کہوں گا۔فجر ہوئی تو مسجد نبویؐ کی چھت پر آذان کیلئے کھڑے ہو گئے ۔مدینہ کے سارے لوگ ان کی آذان سننے کیلئے گھروں سے نکل آئے۔ آذان شروع فرمائی جب اللہ اکبر کہا تو سب کے رونگٹے کھرے ہو گئے ۔ پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دور مبارک لوگوں کے سامنے آگیا ۔ جب آپ ؓنے روضہ اقدس کی طرف انگلی کا اشارہ کرکےاشھدان محمد رسول اللہ کہا تو پردہ نشین خواتین بھی بے تاب ہو کر گھروں سے باہر نکل آئیں ۔صحابہ کرامؓ کی ہچکیاں بندھ گئیں ۔ حضرت عمرؓ بھی دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور ڈاڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہوگئی۔ دونوں شہزادوں کی بھی چیخیں نکل گئیں اور بلک بلک کر رونے لگے۔ ایسا معلوم ہو تا تھا کہ گویا پیغمبر علیہ السلام کا آج ہی وصال ہو اہے۔ کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ وﷺ کی رحلت کے بعد مدینہ منورہ میں ایسا دلدوز اور پُراثر منظر آج تک دیکھنے میں نہیں آیا ۔ حضرت بلالؓ نے خود بھی روتے روتے بمشکل آذان مکمل کی ۔(آپؓ نے 20 ہجری دمشق میں وصال فرمایا)

مزید واقعات پڑہیں