Top Daily Quotes

Masjid Nabvi Banay Waly Engineer Ney Kia Mojzah Dekha?

مسجد نبویؐ بنانے والے انجینئر نے مسجد بناتے وقت کون سا معجزہ دیکھا۔۔۔؟

Majid e Nabvi Mojiza 1 Top Daily Quotes

آج ہم بات کرنے والے ہیں اُ س انسان کی جو پیشے لے لحاظ سے ایک انجینئر تھے ۔جنہوں نے سب سے مقدس دو مسجدیں جنہیں ہم مسجدِ نبویؐ اور مسجد الحرام کے نام سے جانتے ہیں ان کی تعمیر میں حصہ لیا۔ مسجد نبویؐ تعمیر کرنے والے انجینئر محمد کمال اسماعیل نے کیا معجزہ دیکھاجس نے سب کو حیران کر دیاتھا ۔ یہ موجودہ مسجد الحرام اور مسجدِ نبویؐ کاخوبصورت نقشہ جو ہم دیکھتے ہیں اس کو ڈیزائن اور بناے والے انجینئر محمد کمال اسماعیل مصر کے رہنے والے تھے جو خبروں کی دنیا سے دور رہنا پسند کرتے تھے، جن کے بارے بہت سے لوگ نہیں جانتے تھے اانجینئر محمد کمال اسماعیل مصر کی تاریخ میں ہائی سکول کی ڈگری حاصل کرنے والےسب سے کم عمر شخص تھے ان کی پیدائش 1908 میں ہوئی اور 2008 میں ان کا انتقال ہوا ، اور مصر کے پہلے رائل اسکول آف انجینئر میں داخلہ لینے والے اور وہاں سے ڈگری لینے والے سب سے کم عمر شخص تھے۔ یہ پہلے انجینئر تھے جنہوں نے حرمین شریفین کی تعمیر اور ڈیزائن کرنے کا کنڑیکٹ سائن کیا ،کنگ فہد اور بن لادن کمپنی کی کو ششوں کے باوجود انہوں نے اپنی انجینئرنگ ڈیزائن اور آر کیٹیکچر نگرانی کیلئے ایک پیسہ بھی لینے سے منع کر دیا جب انجینئر محمد کمال اسماعیل نے لاکھوں کا چیک لوٹاتے ہوئے بن لادن سے کہا مجھے دو مقدس مسجدوں میں کام کرنے کیلئے پیسے کیوں لینے چاہئے ؟۔۔ اگر میں ایسا کرتا ہوں تو آخرت میں اپنے رب تعالیٰ کو کیا منہ دکھاؤں گا؟۔۔اس لیئے انہوں نے اپنے کام ایک پیسہ بھی نہیں لیا۔ مسجد الحرام کا کنسڑیکشن کی قیمت اس وقت سو بلین ڈالر سے زیادہ آئی تھی ۔ انجینئر محمد کمال اسماعیل اگر چاہتے تو بہت پیسہ کما سکتے تھے۔ لیکن ان کا ایمان دیکھو کہ ایک پیسہ بھی لینے سے انکار کر دیا۔ چوالیس سال کی عمر میں ان کی شادی ہوئی اللہ نے بیٹے کی نعمت سے نوازالیکن ساتھ ہی بیوی کا انتقال ہو گیا،اس کے بعد وہ اکیلے رہے اور ساری زندگی اللہ کی بندگی میں گزاری۔سوسال کی عمر پائی اور پورے سو سال وہ میڈیا، اخبار،ٹی وی ساری سُرخیوں سے گمنام رہے ۔ دوسری مرتبہ ان دونوں مسجدوں کو بنانے کا کام اللہ نے صرف انجینئر محمد کمال اسماعیل سے ہی لیا ۔ حرمین شریفین مین لگائے گئے ماربل کی بڑی دلچسپ اور مشہور کہانی ہےاسے سُن کر آپ کا ایمان تازہ ہوگا۔حرمین شریفین میں لگا ہو پتھر ایک نایاب پتھر ہےجو پوری دنیا مین صرف گریس کے چھوٹے سے پہاڑ میں موجود تھا۔اور اس کی خاصیت یہ ہے کہ گرمی میں بھی یہ فرش کو ٹھنڈا رکھتا ہے انجینئر محمد کمال اسماعیل سفر کر کے گریس پنہچے اور حرم کیلے تقریباًآدھا پہاڑ خریدنے کا کنٹر یکٹ سائن کیا اور پھر مکہ واپس آگئے حرم شریف میں پتھر لگایاگیا جب تعمیر پوری ہوئی تو سعودی کنگ نے انجینئر محمد کمال کو وہی پتھر مسجد نبویؐ میں بھی لگانے کی فرمائش کر دی ۔ لیکن اس دوران پورے 15 سال گزر چکے تھے اور سعودی کنگ نے وہی ماربل لگانے کو کہا جو انہوں نے 15 سے پہلے گریس سے خریدا تھااب وہ پریشان ہو گئے۔کیونکہ اس دنیا میں صرف ایک ہی جگہ گریس ہی تھا جہاں وہ پتھر پایا جاتا تھا اور آدھا پہاڑ تو وہ پہلے ہی خرید چکے تھے ۔ انجینئر محمد کما ل اسماعیل بتاتے ہیں کہ وہ اُسی کمپنی کے سی ای او کے پاس گئے ان سے ماربل کے بارے پوچھا جو بچ گیا تھا تو اُس آفیسر نے بتایا کہ وہ ماربل تو ہم نے آپ کے جانے کے بعد ہی بیچ دیا تھا اب تو پورے 15 سال ہو گئے ہیں یہ بات سُن کر وہ بہت پریشان ہوئے اور میٹنگ چھور کر جانے لگے تو وہاں موجو د آفس سیکٹری سے ملے اور گذارش کی کہ مجھے اس شخص کا پتہ بتا ؤ جس نے بچا ہو ا ماربل خریدا تھااُس نے کہا بہت پُرانا ریکارڈ تلاش کرنا بہت مشکل ہوتا ہےلیکن آپ مجھے اپنا فون نمبر دے دیجئے مین تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہوں ااُنہوں نے اپنا فون نمبر اور ہوٹل کا پتہ دیا اور ہوٹل واپس آگئے، مار بل کمپنی کےآفس سے نکلنے سے پہلے ہی سوچا کہ مجھے کیا کرنا ہے کسی نے بھی خریدا ہو اللہ خود ہی بندو بست کر دے گا۔ اگلے دن ایئر پورٹ پر جانے سےکچھ گھنٹے پہلے انہیں ایک فون آیا کہ مجھے ماربل کے خریدار کا پتہ مل گیا ہےانجینئر محمد کمال اسماعیل یہ سن کر بہت خوش ہوئے لیکن ساتھ ہی ساتھ انہیں یہ بھی ڈر تھا کہ اتنا لمبا عرصہ گزرنے کے بعد اس خریدار سے ملاقات ہو پائے گی یا نہیں، بہر حال وہ آفس پہنچے تو سیکرٹری نے ماربل خریدار کمپنی کا پتہ بتایا جب انجینئر کمال نے وہ پتہ دیکھا تو اُن کا دل کچھ دیر کےلئے دھڑکنا بھول گیا پھر انہوں نے زور کا سانس لیا کیونکہ وہ کمپنی جس نے ماربل خریدا تھا وہ ایک سعودی کمپنی تھی انجینئر کمال مخمد اسماعیل نے سعودیہ کی فلائٹ پکڑی اور اسی دن سعودیہ پہنچے اور سیدھا مالک کو ملے اور پوچھا کہ جو ماربل آپ نے گریس سے خریدا تھااس کا کیا کیا؟ تو اس نے جواب دیاکہ مجھے کچھ یادنہیں ،اس نے اپنے سٹور ڈیپارٹمنٹ سے بات کی اور ان سے پوچھا کہ وہ سفید ماربل جو یونان سے منگایاگیا تھا وہ کہاں ہے تو سٹوروالوں نے کہا کہ وہ سارا ماربل موجود ہےاور اس کو کبھی استعمال ہی نہیں کیا گیایہ سب سن کرانجینئر محمد کمال اسماعیل ایک بچے کی طرح رونے لگے اور کمپنی کے مالک کو پوری کہانی سنائی اور بلینک چیک دیا اور کہاکہ اس میں جتنی چاہے رقم لکھ لواور ماربل میرے حوالے کر دوکمپنی کے مالک کو جب یہ پتہ چلا کہ یہ ماربل مسجد نبویؐ میں استعمال ہونا ہےتو اس نے ایک پیسہ بھی نہیں لوں گا۔ اللہ نے یہ ماربل مجھ سے خریدوایا اور پھر میں اس کو بھول گیا اس کا مطلب یہی تھا کہ یہ مار بل مسجد نبویؐ میں ہی استعمال ہونا تھا۔یہ وہ مسجد نبویؐ ہے جس کی تعمیر حضرت محمد ﷺ نے خود اپنے مبار ک ہاتھوں سے کی تھی یہ وہ جگہ ہے جہاں آپؐ کی اُونٹنی رکی تھی اور اس ایک ایک اینٹ خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم نے اپنے ہاتھوں سے رکھی تھی وہ کتنے خوش قسمت لوگ ہیں جن کو اللہ نے اپنے دو مقدس مقامات کی تعمیر کیلئےچنا۔ اللہ تعالیٰ انجینئر محمد کمال ا سماعیل کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فر مائےآمین۔

مزید واقعات پڑہیں